in

محرم الحرام و یومِ عاشورہ کی فضیلت اور تاریخ

اسلامی سال یعنی قمری سال یاسنہ ہجری سال کاپہلا مہینہ محرم الحرام کابابرکت مقدس مہینہ ہے۔ محرم”حرم“ سے ماخوذہے جس کے معنی عزت واحترام کے ہیں۔اسلامی سال یعنی قمری سال یاسنہ ہجری سال کاپہلا مہینہ محرم الحرام کابابرکت مقدس مہینہ ہے۔ محرم”حرم“ سے ماخوذہے جس کے معنی عزت واحترام کے ہیں۔محرم کو”محرم“ اس لئے بھی کہاجاتا ہے کہ اہل عرب اس مہینے میں اپنی تلواریں میانوں میں ڈال دیتے تھے اور لوٹ مارقتل وغارت سے رک جاتے تھے یہاں تک کہ لوگ اپنے دشمنوں سے بھی خوف ہوجاتے تھے اور اپنے باپ یابھائی کے قاتل سے ملتے تھے تو اس سے کچھ نہ پوچھتے تھے اور نہ کسی سے لڑائی جھگڑا کرتے تھے گویا زمانہ جاہلیت میں بھی لوگ محرم کااحترام کرتے تھے اور اس مہینے میں کسی انسان کے قتل اور جنگ وجدال کوحرام سمجھتے تھے۔اللہ کے محبوب کریمﷺ کی آمد کے بعد اسلام میں اس ماہ مبارک کی حرمت وعظمت اور زیادہ ہوگئی۔ قرآن مجید میں ارشاد ہے کہ بے شک اللہ کی کتاب میں اللہ کے نزدیک گنتی کے مطابق اس وقت بارہ مہینے ہیں جب سے اس نے آسمان وزمین بنائے ہیں ان مہینوں میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھادین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جانوں پر ظلم مت کرو(القرآن) اور حرمت واکرام والے چار ماہ ہیں جن میں محرم،رجب المرجب،ذی قعدہ،اور ذی الحجہ شامل ہیں۔ایک بار کسی نے رسول کریمﷺ سے عرض کی کہ یارسول اللہﷺ!فرض نماز کے بعد کونسی نمازافضل ہے اور رمضان کے فرض روزوں کے بعد کس مہینے کے روزے افضل ہیں،سرکاردوعالم ﷺ نے ارشاد فرمایا کہ”فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز نماز تہجد ہے اور رمضان کے فرض روزوں کے بعد سب سے افضل روزے محرم الحرام کے ہیں۔ایک اور جگہ نبی کریمﷺ نے ارشاد فرمایا کہ جوشخص محرم الحرام میں روزے رکھتا ہے تو اسے ہرروزے کے بدلے میں تیس روزوں کاثواب ملتا ہے۔رسول پاکﷺ کاارشاد ہے کہ جو شخص محرم الحرام میں پہلے دس دن تک مسلسل روزے رکھے گا گویا اس نے دس ہزار سال اس طرح عبادت کی کہ رات میں قیام کیااور دن میں روزہ رکھا۔اس ماہ مقدس کادسواں دن”یوم عاشور“ کہلاتا ہے۔عاشور سریانی زبان کالفظ ہے جس کے معنی جامع برکات‘ کے ہیں اور یہ یوم عاشورہ ہرسال مسلمانوں کیلئے جامع برکات بن کرآتا ہے۔اس لئے عرب نے اس دن کوعاشورہ کے نام موسوم کیا۔علماء کاکہناہے کہاکہ اللہ نے اسی دن کوعرشی،کرسی،لوح قلم،جنت،حضرت آدم علیہ السلام اماں حوا،زمین وآسمان اور ارواح کوپیدا فرمایا۔یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور عظمت کا حامل دن ہے،محرم الحرام کی دسویں تاریخ کوعاشورہ کہاجاتاہے, اس دن اطاعت خداوندی بجالانے والوں کوحق تعالیٰ بہت بلندمقام سے نوازتاہے ۔چناں چہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ:

(۱) یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم علیہما السلام کو پیدا کیاگیا۔

(۲) اسی دن حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاة والسلام کی توبہ قبول ہوئی۔

(۳)اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔

(۴)اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی۔

(۵)اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ،،خلیل اللہ“ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی۔

(۶)اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔

(٥)اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔

(۸) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔

(٩)اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔

(۱۰)اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔

(۱۱)اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی۔

(۱٢)اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔

(۱۳)اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔

(۱۴)اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔

(۱۵)اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔

(۱۶) اور اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلاکر آسمان پر اٹھایاگیا۔

(۱۷) اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی۔

(۱۸)اسی دن قریش خانہٴ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔

(۱۹)اسی دن حضور اکرم  صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔

(۲۰)اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہٴ رسول  صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشہٴ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو میدانِ کربلا میں شہید کیا۔

(۲۱)اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ (نزہة المجالس،معارف القرآن)

مذکورہ بالا واقعات سے تو یوم عاشورہ کی خصوصی اہمیت کا پتہ چلتا ہی ہے، اسکے علاوہ یوم عاشوراء زمانہٴ جاہلیت میں قریشِ مکہ کے نزدیک بڑا محترم دن تھا، قریش اس دن روزہ رکھتے تھے، اور ممکن ہے کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی کچھ روایات اس کے بارے میں ان تک پہنچی ہوں گی، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا دستور تھا کہ قریش ملتِ ابراہیمی کی نسبت سے جو اچھے کام کرتے تھے، ان کاموں میں آپ ان سے اتفاق واشتراک فرماتے تھے، اسی بنا پر حج میں بھی شرکت فرماتے تھے، اپنے اس اصول کی بنا پر آپ قریش کے ساتھ عاشورہ کا روزہ بھی رکھتے تھے؛ لیکن دوسروں کو اس کا حکم نہیں دیتے تھے، پھر جب آپ مدینہ طیبہ تشریف لائے اور یہاں یہود کو بھی آپ نے عاشورہ کا روزہ رکھتے دیکھا اور ان کی یہ روایت پہنچی کہ یہ وہ مبارک تاریخی دن ہے، جس میں حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم کو اللہ تبارک وتعالیٰ نے نجات عطا فرمائی تھی اور فرعون اور اس کے لشکر کو غرقاب کیا تھا تو آپ  صلی اللہ علیہ وسلم نے اس دن کے روزے کا زیادہ اہتمام فرمایا اور مسلمانوں کو بھی عمومی حکم دیا کہ وہ بھی اس دن روزہ رکھا کریں(بخاری)نیزحضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا ماہ رمضان کے روزوں کے بعدجس مہینے کے روزے افضل ہیں وہ محرم الحرام ہے اور فرض نمازکے بعدسب سے افضل نمازرات (تہجد)کی ہے ۔(مسلم شریف)حضرت جابربن سمرہؓ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ (پہلے)عاشورہ کے روزہ رکھنے کاحکم دیاکرتے تھے اوراس دن ہماری خبرگیری کیاکرتے تھے (یعنی عاشورہ کادن نزدیک آتاتواسکاروزہ رکھنے کی نصیحت فرمایاکرتے تھے)مگرجب ماہ رمضان المبارک کے روزے فرض ہوگئے تونہ آپ ﷺ نے ہمیں اس دن روزہ رکھنے کاحکم فرمایااورنہ اس سے منع کیااورنہ ہی اس دن ہماری خبرگیری کی (مسلم شریف)حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا اور ابن ماجہ کی ایک روایت میں ”السنة التی بعدہا“ کے الفاظ ہیں (الترغیب)

          بعض حدیثوں میں ہے کہ آپ نے اس کا ایسا تاکیدی حکم دیا جیسا حکم فرائض اور واجبات کے لیے دیا جاتا ہے؛ چنانچہ بخاری ومسلم میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشورہ کی صبح مدینہ منورہ کے آس پاس کی ان بستیوں میں جن میں انصار رہتے تھے، یہ اطلاع بھجوائی کہ جن لوگوں نے ابھی تک کچھ کھایا پیا نہ ہو وہ آج کے دن روزہ رکھیں، اور جنھوں نے کچھ کھاپی لیا ہو وہ بھی دن کے باقی حصے میں کچھ نہ کھائیں ؛ بلکہ روزہ داروں کی طرح رہیں، بعد میں جب رمضان المبارک کے روزے فرض ہوئے تو عاشورہ کے روزہ کی فرضیت منسوخ ہوگئی اور اس کی حیثیت ایک نفل روزہ کی رہ گئی لیکن اس کے بعد بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا معمول یہی رہا کہ آپ رمضان المبارک کے فرض روزوں کے علاوہ نفلی روزوں میں سب سے زیادہ اسی روزہ کا اہتمام فرماتے تھے(معارف الحدیث)

یہودکی مشابہت سے بچنے اوران کی مخالفت کرنے کے لئے عاشورہ کے ساتھ 9محرم الحرام کاروزہ بھی رکھناچاہیے اگر9تاریخ کاروزہ نہ رکھ سکیں توعاشورہ کے ساتھ 11محرم الحرام کاروزہ رکھ لیناچاہیے ۔حضرت ابن عباسؓ سے ایک اورروایت ہے کہ جب آپ ﷺ نے عاشورہ کاروزہ رکھااوردوسروں کوبھی اس دن روزہ رکھنے کاحکم دیا توصحابہ کرامؓ نے عرض کیایارسول اللہ ﷺ !اس دن کی تویہودونصاریٰ عظمت کرتے ہیں تو  آقا ﷺ نے فرمایا”اگرآئندہ سال اللہ نے باقی رکھاتونویں محرم کاروزہ رکھوںگا“۔(مسلم شریف)بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ صرف یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا مکروہ ہے؛ لیکن حضرت علامہ انور شاہ کشمیری نے فرمایا ہے کہ عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں: (۱) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے (۲) نویں اور دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔ ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے اسی کو فقہاء نے کراہت سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو آپ نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو اس کو کیسے مکروہ کہا جاسکتا ہے۔ (معارف السنن)

ان احادیث شریف سے ظاہر ہے کہ یوم عاشوراء بہت ہی عظمت وتقدس کا حامل ہے؛ لہٰذا ہمیں اس دن کی برکات سے بھرپور فیض اٹھانا چاہیے۔

یوم عاشوراء کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے؛ چنانچہ چار وجوہ سے اس ماہ کو تقدس حاصل ہے:

                (۱) پہلی وجہ تو یہ ہے کہ احادیث شریفہ میں اس ماہ کی فضیلت وارد ہوئی ہے؛ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ ماہ رمضان المبارک کے بعد کون سے مہینہ کے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، تو آپ نے جواب دیا تھا کہ: ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا۔(ترمذی)

                نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم الحرام کا ہے۔(ترمذی)

                اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔(الترغیب)

                (۲) مندرجہ بالا احادیث شریفہ سے دوسری وجہ یہ معلوم ہوئی کہ یہ ”شہرُ اللّٰہ“ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا مہینہ ہے تو اس ماہ کی اضافت اللہ کی طرف کرنے سے اس کی خصوصی عظمت وفضیلت ثابت ہوئی۔

                (۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ ”اشہر حرم“ یعنی ان چار مہینوں میں سے ہے کہ جن کو دوسرے مہینوں پر ایک خاص مقام حاصل ہے، وہ چار مہینے یہ ہیں:

                (۱) ذی قعدہ (۲) ذی الحجہ (۳) محرم الحرام (۴) رجب (بخاری،مسلم)

                (۴) چوتھی وجہ یہ کہ اسلامی سال کی ابتداء اسی مہینے سے ہے؛ چنانچہ امام غزالی لکھتے ہیں کہ ”ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے سے سال کا آغاز ہوتا ہے؛ اس لیے اسے نیکیوں سے معمور کرنا چاہیے، اور خداوند قدوس سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ ان روزوں کی برکت پورے سال رکھے گا۔ (احیاء العلوم)

یوم عاشوراء میں کرنے کے کام

                احادیث طیبہ سے یومِ عاشوراء میں صرف دو چیزیں ثابت ہیں:(۱) روزہ: جیساکہ اس سلسلے میں روایات گزرچکی ہیں؛ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ احادیث میں نبی کریم  صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار ومشرکین کی مشابہت اور یہود ونصاریٰ کی بود وباش اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، اس حکم کے تحت چونکہ تنہا یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا یہودیوں کے ساتھ اشتراک اور تشابہ تھا، دوسری طرف اس کو چھوڑ دینا اس کی برکات سے محرومی کا سبب تھا؛ اس لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس پیغمبر  صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ یوم عاشوراء کے ساتھ ایک دن کا روزہ اور ملالو، بہتر تو یہ ہے کہ نویں اور دسویں تاریخ کا روزہ رکھو، اور اگر کسی وجہ سے نویں کا روزہ نہ رکھ سکو تو پھر دسویں کے ساتھ گیارہویں کا روزہ رکھ لو؛ تاکہ یہود کی مخالفت ہوجائے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشابہ نہ رہے،  (۲) اہل وعیال پر رزق میں فراخی: شریعتِ اسلامیہ نے اس دن کے لیے دوسری تعلیم دی ہے کہ اس دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت اورفراخی کرنا اچھا ہے؛ کیونکہ اس عمل کی برکت سے تمام سال اللہ تعالیٰ فراخیِ رزق کے دروازے کھول دیتا ہے؛ چنانچہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ  صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے کے سلسلے میں فراخی اور وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں وسعت عطا فرمائیں گے۔(البیہقی)

جب  یہ بات معلوم ہو گی کی یہ مہینہ معظم ومحترم اور فضیلت والا ہے، محرم کے معنی ہی پُرعظمت اور مقدس کے ہیں، 

           تو اس میں نیک اعمال بہت زیادہ کرنے چاہئیں، نکاح وغیرہ خوشی کی تقریبات بھی اس میں زیادہ کرنی چاہئیں، اس میں شادی کرنے سے برکت ہوگی۔اس مہینے میں شادی کو منحوس سمجھنا شیعی ذہنیت ہے، جس سے پرہیز لازم ہے اور اس کے علاوہ بھی بہت ساری منگڑت چیزیں اس ماہ میں ہوتی ہیں ان سے بھی پرہیز کرنا لازم ہے

              اللہ تعالیٰ ہم سب کو دین کا صحیح فہم عطا فرمائے، اور ہر قسم کے گناہوں اور معصیتوں سے محفوظ فرمائے اور اپنی اور اپنے حبیبِ پاک  صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی محبت واطاعت کی دولتِ عظمیٰ سے نوازے۔ آمین.

The views and opinions expressed by the writer are personal and do not necessarily reflect the official position of VOM.
This post was created with our nice and easy submission form. Create your post!

What do you think?

Written by Abid Shafi

Comments

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

Loading…

0

Comments

0 comments